ابنا: شمالی بنگلہ دیش میں ملک کی سب سے بڑی اسلامی جماعت اور پولیس میں شدید جھڑپوں کے بعد فوجی اہلکار تعینات کردئے گئےہیں۔ ملک میں جاری جنگی جرائم کے مقدمات بند کرنے کیلئے ملک گیر ہڑتال بھی کی گئی جس میں کم ازکم تین افراد ہلاک ہوچکےہیں۔ ایک اور علیحدہ واقعے میں اتوار کے روز شمال مغربی ضلع میں دو افراد لقمہ اجل بن گئے۔ ان ہلاکتوں کے بعد جمعرات سے اب تک فسادات میں پچاس سے زائد لوگ مارے گئے ہیں۔ جماعتِ اسلامی کے رہنما دلاور حسین سیدی کو 1971 کی جنگ میں جرائم کے ارتکاب پر سزائے موت سنانے کے بعد سے بنگلہ دیش میں بد امنی کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ بنگلہ دیشیوں کے بقول اس جنگِ آزادی میں تیس لاکھ افراد قتل ہوئے اور دو لاکھ سے زائد خواتین کی آبروریزی کی گئی تھی۔
اب مختلف علاقوں میں تعینات فوج پولیس اسٹیشن کی نگرانی اور حفاظت کررہی ہے۔ ساتھ ہی ہر قسم کے احتجاج اور اجتماعات پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اب سے تقریباً چالس سال قبل بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی کی مخالفت کرنے والی اسلامی جماعت نے اتوار اور پیر کے روز ہڑتال کی درخواست کی ہے۔ اسی جماعت پر الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے متوازی عسکری دھڑے بناکر پاکستانی فوج کی مدد کی تھی اور اس طرح پاکستانی فوج نے بنگلہ دیشیوں پر ظلم کئے تھے۔جماعت کے مزید سات لوگوں پر بھی جنگی مقدمات قائم کئے گئے ہیں جن میں جماعت کے سربراہ مطیع الرحمان نظامی شامل ہیں۔
اب مختلف علاقوں میں تعینات فوج پولیس اسٹیشن کی نگرانی اور حفاظت کررہی ہے۔ ساتھ ہی ہر قسم کے احتجاج اور اجتماعات پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اب سے تقریباً چالس سال قبل بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی کی مخالفت کرنے والی اسلامی جماعت نے اتوار اور پیر کے روز ہڑتال کی درخواست کی ہے۔ اسی جماعت پر الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے متوازی عسکری دھڑے بناکر پاکستانی فوج کی مدد کی تھی اور اس طرح پاکستانی فوج نے بنگلہ دیشیوں پر ظلم کئے تھے۔جماعت کے مزید سات لوگوں پر بھی جنگی مقدمات قائم کئے گئے ہیں جن میں جماعت کے سربراہ مطیع الرحمان نظامی شامل ہیں۔